اتوار، 23 جون، 2019

کہانی

کہانی،
جو انسان کی پیدائش سے پہلے ہی وجود میں آگئی تھی ۔ کہانی جو ازل سے ابد تک  ہے۔

عائشہ تنویر
Aisha Tanveer

جمعرات، 17 جنوری، 2019

ایک تصویر ایک کہانی


تصویری کہانی

عنوان : سانجھا دکھ

" سرحد پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ ، ایک. سپاہی شہید "
معمول کی خبر تھی جو "امن اور دوستی " کے نعرے لگانے والوں کے نوٹس میں بھی نہ آئی۔

باؤنڈری لائن کی خلاف ورزی پر حکمرانوں نے کچھ نہیں کیا کیونکہ محافظ ان کی اولاد نہ تھے 
لیکن دور چھوٹے سے گاؤں میں بیٹے کی شادی کی تاریخ رکھتے، بہو کے سہاگ کا جوڑا خریدتے بوڑھے ماں باپ ڈھے گئے تھے۔
پرچم میں لپٹے بیٹے کی تدفین کے بعد اندھیرے میں بیٹھے سوچ رہے تھے۔
بچھڑنے کا غم کریں یا بیٹے کی شہادت کی خوشی منائیں

#عائشہ_تنویر

پیر، 14 جنوری، 2019

ہماری ہیروئن

ہماری ہیروئن

اکثر لوگوں  کو شکوہ رہتا ہے کہ دنیا بدل گئی مگر ہمارے ڈائجسٹ کی ییروئن نہ بدلی ۔ ان کا یہ شکوہ بالکل بے جا ہے ۔ زمانے اور موسم کے ساتھ فیشن بدلتے ہیں تو ڈائجسٹ میں  چھپنے والی کہانیوں  کا فارمولا کیوں نہ بدلے ۔

ہماری ہیروئن اب پہلے جیسی نہیں رہی ۔ٹرینڈ بدل گئے ہیں ۔ ہیروئن مہمانوں  کے آنے پر جلدی سے مٹر پلاؤ بنا کر شامی کباب فرائی نہیں  کرتی بلکہ اب وہ گھر میں  بیک کیےکیک  ، براؤنیز اور پزا لا کر سامنے سجا دیتی ہے ۔ جتنی بیکنگ  ہماری کہانیوں  میں  ہوتی ہے،  پورے پاکستان  میں  کہیں نہیں  ہوتی ۔ عوام کے پرزور اصرار پر کبھی دیسی کھانے بنائیں بھی جائیں تو بریانی،  قورمے کے بجائے افغانی پلاؤ،  لبنانی کباب اور ہرے مصالحے کا سالن پیش کیا جاتا ہے ۔ کچومر سلاد کو رشین سلاد سے بدل دیا جاتا ہے ۔

ویسے توہیروئن کو ان سب جھنجھٹ کی ضرورت ہی نہیں  کیونکہ وہ جانتی ہے کہ آج کل مہمانوں  کو کھانے سے زیادہ کمپنی دینا ضروری ہے ۔ وہ فون پر کھانا آرڈر کر کےخود مہمانوں  کے ساتھ آ بیٹھتی ہے جو حیرت سے بک شیلف میں  " خوشبو" اور " آنکھیں بھیگ جاتی ہیں " کی بجائے  کیمیاء و طبیعات کی کتابیں دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔ جب قدرے جھجھکتے ہوئے مہمان دریافت کرتے ہیں کہ آپ کو ادب سے دلچسپی نہیں  تو ہیروئن خود اعتمادی سے اپنے اسٹیپس میں  کٹے بال جھٹکتے ہوئے ہنس دیتی ہے ۔ لمبی چوٹی اب فیشن میں  جو نہیں ۔
ہیروئن کی بجائے مما فخریہ بتاتی ہیں ۔
" اس کے پاس وقت ہی کہاں، یونیورسٹی  کے بعد اپنا بلاگ بھی چلا رہی ہے ۔ پھر بھی شوق بہت ہے ۔ 'فورٹی رولز آف لو' اور 'الکیمسٹ'  تو کب کی پڑھ چکی ۔"

ہیروئن اب ٹیوشن سینٹر یا سوشل ورک  کے بجائے سوشل میڈیا پر پائی جاتی ہے ۔ اس کے کلکس انسٹا پر وائرل ہو جاتے ہیں اور اس کے ٹوئٹس الیکٹرانک میڈیا میں  جگہ پاتے ہیں ۔

نئے زمانے کی جدید ہیروئن اب چوڑی دار پائجاموں کی بجائے  برانڈڈ ڈھیلے ڈھالے کرتے کے ساتھ جینز پہنتی ہے ۔  بڑے بڑے دوپٹوں کی جگہ اسٹالرز چلتے ہیں ۔
وہ آئی شیڈو لگائے نہ لگائے مگر کلر لینس کا استعمال عام ہے ۔ لیزر آپریشن نے جتنا فیض ہیروئین کو پہنچایا باقی عوام حاصل نہ کر سکی ۔ اب شاذ و نادر ہی چشمے والی ہیروئن نظر آتی ہے ۔ چشمہ لگانے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ گاڑی سے نکل کر خنک شاپنگ مال کے اندر جاتی ہیروئن سیاہ سن گلاسز بالوں پر نہیں  ٹکا سکتی۔
ہیروئن چندے آفتاب،  چندے ماہتاب نہیں  ہوتی مگر اس کا فیشن سینس اعلیٰ  ہوتا ہے ۔ باقاعدگی  سے کلینزنگ کرنے کی وجہ سے اس کی سنہری رنگت،  کزن کی دوھیا سفید رنگت سے زیادہ لشکارے مارتی ہے ۔ وہ اب ہاتھوں میں  بھر بھر کر حیدرآبادی ریشمی چوڑیاں نہیں  پہنتی بلکہ ایک نازک سا بریسلیٹ اس کے سنگھار کو چار چاند لگانے کے لیے کافی ہوتا ہے ۔ گلابی کپڑوں میں  قدرتی گلابی ہونٹوں کے بجائے وہ طریقے سے اپنے چہرے کی رنگت کے حساب  سے لپ گلوز یا لپ کلر استعمال کرتی ہے ۔ لپ پینسل ہونٹوں کے خم کو نمایاں کرنے میں  مدد دیتی ہے ۔  کپڑے فیشن کے حساب سے سرمئی،  سیاہ و قرمزی رنگ بدلتے رہتے ہیں ۔
ہیروئن درختوں  سے کیری،  آم،  جامن یا فالسے اتار کر کھانے کی بالکل شوقین  نہیں  ہوتی کیونکہ اسٹائلش لگنا آسان نہیں  ۔اپنی فٹنس اور اپنے وزن کو مین ٹین رکھنے کے لیے اسے کیلوریز گن گن کر کھانا کھانا ہوتا ہے ۔پھر بھی " تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے " کہ مصداق ہیرو سے فوڈ اسپاٹ پر ٹکراؤ ہو جائے تو وہ  بڑا سا منہ کھول کر گول گپا کھانے کی بجائے نزاکت سے فرائز کا کنارہ کترنے یا اسٹرا سے سلیش پینے کو ترجیح دیتی ہے ۔

اب ہیروئن پھپو کے بیٹے کے رشتے سے انکار کرنے کی بجائے نرمی سے ماں کو سمجھاتی ہے کہ پھپو اور آپ کے اختلافات  بجا مگر انہیں ہم سے بہت پیار ہے  کیونکہ وہ اچھے سے جانتی ہے کہ جہان سکندر ، حیا کی پھپو کا بیٹا تھا تو کیف،  خوش نصیب کے تایا کا چشم و چراغ ۔
دور جدید کی ہیروئن عید پر خود سارا دن خوار ہونے کی بجائے صبح صبح نک سک سے تیار ہو کر بیٹھ جاتی ہے اور اس کا سب سے بڑا کام ملازمہ کو ہدایات  دینا ہوتا ہے ۔ اگر کوئی کم عقل اس پر اعتراض  کر دے تو وہ ایک شرمندہ کرنے والی نظر اس پر ڈال کر بتاتی ہے کہ مجھے اپنے ملازمین کا تم سے زیادہ خیال ہے ۔ میں  نے اسے دینے کے لیے  پیسے سنبھال رکھے ہیں اگر کام کروائے بغیر دے دوں گی تو اس کی عزت نفس مجروح ہو گی اور اسے کمانے کی بجائے  مانگ کر کھانے کی عادت پڑے گی ۔
یوں بھی ہیروئن کی اماں کو اب اس کے ہاتھ کے سلے کپڑوں یا قیمہ بھرے کریلوں کا چرچا کرنے کی چنداں حاجت نہیں  ۔ وہ فخریہ سب کے سامنے بتاتی ہیں کہ یہ میری بیٹی نہیں  ، بیٹا ہے ۔  پاپا کی بیماری میں  سارا کاروبار  بخوبی سنبھال لیا ۔
ہیرو کو بھی آج کل شرمانے لجانے والی ہیروئن متاثر نہیں  کرتی۔ وہ بااعتماد لہجے میں  منہ توڑ جواب دیتی لڑکی کا متلاشی ہوتا ہے۔ جس لڑکی کو وہ سیدھی سادی  ابو کی بھتیجی سمجھ کر مسترد کرتا ہے ۔بعد میں معلوم ہوتا ہے،  وہ گھر بیٹھے مشہور اخبارات میں  کالم لکھا کرتی ہے ۔ ہیرو اب یونیورسٹی  میں  جھگڑا ہونے پر ہیروئن کو درختوں  سے گِھرے راستوں سے نہیں  نکالتے بلکہ ہیروئن خود حواس کھوئے بغیر زخمی ہیرو کو ہسپتال پہنچا دیتی ہے ۔
ایسی پر اعتماد ہیروئن شوہر کے ظلم و ستم کہہ کر " اپنا نام میرے نام سے مت ہٹائیں " کی التجا نہیں  کرتی بلکہ وہ فوراً سے گھر چھوڑ کر چلی جاتی  ہے ۔ صلح،  صفائی لیے رائٹر کو ایک علیحدہ قسط لکھنی پڑتی ہے ۔
یہی بے وفائی اگر منگیتر کرے تو صلح کی نوبت نہیں  آتی اور  یک طرفہ محبت میں  گرفتار کلاس فیلو/ کولیگ کو فوراً ہیرو کے عہدے پر فائز کر دیا جاتا ہے۔
ہماری یکتا و دانا ہیروئن کو ہیرو کیسا چاہیے ہوتا ہے،  اس پر بات پھر سہی ۔۔۔۔

#عائشہ_تنویر

جمعہ، 4 جنوری، 2019

عشق محشر سی ادا رکھتا ہے

حمیرا فضا کا خوبصورت ناول " عشق محشر سی ادا رکھتا ہے "  اپنے اختتام کو پہنچا۔ حمیرا کا اسلوب کمال ہے ۔  بہت شاندار جملے لکھتی ہیں،  جن کی کاٹ دل پر اثر کرتی ہے ۔
کردار اور صورت کے حسن کے درمیان چلتی محبت کی کہانی کو حمیرا نے بہت اچھے طریقے سے سنبھالا۔
ان کے قلم کی طاقت ہی تھی جو کردار کا دکھ قاری نے محسوس کیا۔
پنجرے میں  قید رنگین پروں والی چڑیاں آذاد فضاؤں میں اڑتے کووں کو کس حسرت سے دیکھ سکتی ہیں ۔ حمیرا نے بخوبی بتایا ۔قید محل کی ہو تو بھی جھونپڑی کی آذاد زندگی ہی یاد آتی ہے ۔
بچوں کی تربیت،  عمارت کی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے ۔بنیاد کی خرابی کس طرح عالیشان عمارت کو ملبے کا ڈھیر بنا دیتی ہے ، یہ ذکیہ بیگم نے دیکھا ۔ ذکیہ بیگم نے جو نفرت کے بیج بوئے،  انہیں کاٹنا ہی تھا ۔ معافی مانگنا آسان سہی مگر تلافی کرنا ہر بار ممکن نہیں  ہوتا۔
محبت  میں  سچائی ہو،  تب بھی کردار کی قیمت پر حصول محبت سدا گھاٹے کا سودا ہے ۔
بہت اچھا لکھا حمیرا۔کہانی نے اتنی اقساط تک باندھ کر رکھا ۔ آپ کا شاعرانہ  انداز کہانی کی دکھوں سے رچی فضا میں  ردھم پیدا کرتا رہا ۔
لکھتی رہیں،  کامیابیاں  سمیٹتی رہیں

عائشہ تنویر

پیر، 11 جنوری، 2016

میرا شہر Karachi Vs Lahore

کراچی اور لاہور کا موازنہ کوئی نئی بات نہیں - اگر دل پر نہ لیا جائے تو اتنی معیوب بھی نہیں آخر اوپر تلے کے بہن بھائیوں کی پیار بھری لڑائیاں ھی تو ان کی محبت کی گواہ ہوتی  ہیں
اسی لئے اگر لاہوری کہتے ہیں
''جنے لاہور نہی ویکھیا او جمیا ھی نھی ''

( جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ھوا )

تو کراچی والے کہتے ھیں''جنے کراچی نہی ویکھیا ، انے جم کے گنوایا''

( جس نے کراچی نہیں دیکھا اس نے زندگی ضائع کر دی)


اور بات تو سچ ہے ایسی بے مقصد زندگی کا کیا کرنا اگر آپ نے منی پاکستان ،روشنیوں کا شہر،شہر قائد ہی نہ دیکھا

ہمارے ایک جاننے والے ایک دفعہ لاہور گئے - رات گئے پہنچے ، ھوٹل میں کمرہ لیا اور سر منہ لپیٹ کر سو گئے- صبح حسب عادت بارہ بجے اٹھے 'ناشتہ منگوایا- ویٹر نے حیرت سے انہیں اور گھڑی کو دیکھا اور جواب دیا
''سرجی ناشتہ تو اب نہیں ملے گا ،دوپہر کے کھانے کا ٹائم ھو گیا ہے اب تو ''
ان کے تو چودہ طبق روشن ہو گئے - کراچی میں تو دل چاہنے پر وہ رات تین بجے اسٹاپ سے آلو کے پراٹھے کھا آتے -موڈ ہوتا تو صبح آٹھ بجے ہی حلوہ پوری کا ناشتہ کرنے چل پڑتے- اب اپنے کھانے پر یہ قدغن ۔۔۔۔۔۔۔ بس سامان اٹھایا اور اگلی ٹرین سے کراچی واپس
اکثر لوگ کہتے ہیں کہ فلم انڈسٹری لاہور میں ہے اس لئے فیشن تو شروع ہی ویاں سے ھوتا ہے - بات تو سچ ہے کہ فیشن وہاں سے شروع ہو کر وہیں ختم ہو جاتا ہے 

فیشن یا ڈرامہ انڈسٹری  کے کراچی میں ھونے سے کراچی والوں کے لباس وانداز پر کوئی فرق نھیں پڑتا - کراچی والے فیشن کے نام پر یونیفارم پہننا پسند نہیں کرتے
کراچی کہ فیشن بھی یہاں کے موسم کی طرح صبح شام بدلتے ہیں -صبح جو لڑکی آپ کو پاؤں کو چھوتی قمیض میں نظر آئے عین ممکن ہے شام کو اسکی قمیض گٹھنوں تک جا پہنچے ۔
یہاں سرتاپا با حجاب  سے لے کر جینز ٹاپ والی لڑکی تک اعتماد سے گھومتی ہے کیونک
 کراچی والے خوش رہنا اور رکھنا جانتے ہیں -نہ کسی کا لباس انکا درد سر ہے اور نہ ھی  ذاتیات میں گھسنا انکا شیوہ


کراچی بہت غریب پرور شہر ہے- یہاں ملک کے کونے کونے سے لوگ رزق کی تلاش میں آتے ہیں اور کامیابی حاصل کرتے ہیں 
مختلف النوع ثقافت کے لوگوں کے یکجا رہنے سے کراچی کی ایک الگ ثقافت وجود میں آئی ہے

کراچی میں کشمیری پلاؤ سے لیکر  حیدرآبادی بریانی تک اور مرغ چھولے سے لے کر چپلی کباب تک سب ملتا ہے

کراچی کے لوگ گھروں میں سندھی،پنجابی،پشتو،سرائکی،بلوچی سب بولتے ہیں لیکن رابطے کی زبان ھماری قومی 
زبان اردو ہے
 اس کے باوجود کراچی وا لے ''جی آیاں نوں'' ''پھلی کری آیو'' اور ''پخیر راغلے '' بخوبی سمجھتے ہیں

ہم نے ایسے بے شمار لوگ دیکھے ہیں جو تلاش معاش کے  لئے یہاں ائے اور پھرانہیں کراچی کی ایسی ''لت'' لگی کہ  یہیں کہ ہو رہے 
کراچی کے سحر سے نکلنا ممکن ھی نہیں میرے دوست

بدھ، 18 نومبر، 2015

مرزا ادیب سے معذرت کے ساتھ



ابا جی مارنے کے بہت شوقین تھے . ''باپ کی طرف پاؤں کر کے بیٹھتا ہے '' ایک تھپڑ .''کھانے میں اتنی دیر لگا دی '' پھر ایک تھپڑ ۔سارے دن میں کتنے ھی تھپڑ کھانے کے موقع آتے رہتے .اور تو اور ابا جی پڑھے لکھے بھی نہیں تھے. جو سکول میں پڑھ کر آتا, گھر آ کر ابا جی کو پڑھانا میری ذمہ داری تھی . ابا جی کو سبق یاد نہ ھوتا تو بھی دو تھپڑ مجھے ھی پڑتے '' خود کچھ سیکھ کر آئے گا تو باپ کو سکھائے گا ناں ''دادی اماں بتاتی تھیں کہ ابا جی بچپن سے بہت نالائق بچے تھے. کتنی کوشش کر لی لیکن پڑھ کر نہ دیا. ابا جی کو دادی کی بات پر بھی غصہ آتا لیکن ماں تھیں کچھ کہہ نہ پاتے تو مجھے ہی ایک تھپڑ لگا دیتے. " چل نکل یہاں سے بے غیرت, باپ کی برائیاں کرنے میں لگا ہے. "ان کا موقف یہ تھا کہ بچے تو سارے ایسے ہی ہوتے ہیں, تھوڑے ضدی, ڈھیٹ, پڑھائی سے جان چھڑانے والے. یہ غلطی دادا جان کی ہے کہ وہ سختی کر کے اپنی اولاد کو قابو نہ کر سکے. اب دادا جان کی اس غلطی کو درست کرنے کے لئے بھی قربانی کا بکرا میں ہی تھا.ابا جی کے اس رویےکی بناء پر اماں میرا بہت خیال رکھتیں." ابا جی جب مجھے مارتے اماں بچانے آ جاتیں, کبھی پیار سے '' اچھا اب بس کریں '' ،'' رہنے دیں ناں بچہ ہے, آئندہ نہیں کرے گا '' یا غصے میں '' غلطی اپنی ہے بلا وجہ بچے کے پیچھے پڑے ھیں-''اس قسم کے جملے سننا اور روزانہ کے دو چار تھپڑ کھانا میرے بچپن کی عادت تھی. ہر بار ابا جی مجھے مارتے تو اماں بچانے آ جاتیں .ایک دن میں نے سو چا ابا مارتے ھیں تو اماں بچاتی ھیں جب اماں ماریں گی تو ابا جی کیا کریں گے ؟یہ دیکھنے کے لئے میں نے اماں کے جہیز کی بیڈ پر زور سے چھلانگ لگائی. بیڈ پہلے ہی قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا تھا, ایسا دھکا ملنے پر اندر جا گرنا لازمی تھا. اپنے جہیز کا گلاس توڑ دینے پر اماں , ابا کو بھی ان کی نانی یاد دلادیتیں تو بیڈ کی شہادت پر مجھے تھپڑ پڑنا لازم تھا. لیکن اس سے پہلے کہ اماں غصے سے آ کر میرے دو تھپڑ لگاتیں, ابا جی زور سے ہنسے اور مذاقاً بولے" لے, آج تیرے نانا کی آخری نشانی بھی گئی , پیسہ بہت تھا لیکن کنجوس اتنے کے بیٹی کے جہیز میں بھی ڈنڈی مار گئے." اماں غصے سے بل کھا کر ابا جی کی طرف مڑی. انہیں اس جملے کے ایک ایک لفظ سے لے کر ابا جی کی ہنسی تک پر اعتراض تھا. ظاہر سی بات ہے نانا کی سب سے بڑی جیتی جاگتی نشانی یعنی میری اماں کے سامنے کس کی مجال ہوئی کہ ان کے والد کی شان میں گستاخی کرے .چاہے وہ ان کا مجازی خدا ہی کیوں نہ ہو. اماں بہشتی زیور میں پڑھے صبر, برداشت کے سارے اسباق بھولے, وہ گرجیں , برسیں کہ ابا جی بھی حیران کم اور پریشان زیادہ ہو گئے . میں فوراً وہاں سے کھسکا تا کہ ابا , اماں تسلی سے معرکہ , صلح کر لیں اور کہیں ابا جی کے ہاتھوں پھر میری ہی شامت نہ آ جائے.دو دن گزرے تو پھر میرے دماغ میں اماں سے مار کھانے کا کیڑا کلبلایا , اسی لئے جب اماں نے اپنا گلابی دوپٹہ پیکو کے لئے دیا تو میں نے شان بے نیازی سے کہا'' اماں اب بوڑھی ھو رھی ھو یہ لال گلابی رنگ مت پہنا کر – اپنی عمر کے حساب سے پھیکے رنگ لیا کر ''حسب توقع اماں کو غصہ آ گیا '' تو وہ کر جو میں نے کہا ھے زیادہ بڑ بڑ نہ کر- تیرے ابا کو بتایا ناں تو یاد کرے گا ''ابا کو اندر آتے دیکھ کر میں نے سر اماں کے قریب کر دیا تو اماں نے ایک ہلکی سی چپیڑ بھی لگا دی –بس ابا جی کے لئے اتنا سٹارٹ کافی تھا- لپک کر قریب آئے اور میں جو سمجھ رہا تھا کہ شاید وہ اماں سے بازپرس کریں یا میری دلجوئی کریں انہوں نے مجھے پکڑ کر مارنا شروع کر دیا'' ماں سے بد تمیزی کرتا ھے – شرم ھے تجھے کچھ – اور تو جو مرضی کرتا رہے کبھی میں نے کچھ نھیں کہا لیکن ماں سے بدتمیزی.... اتنی نیک ، سوھنی تیری ماں ، تیرے لاڈ اٹھا اٹھا تھکتی نہیں اور تو اس کے آگے زبان چلاتا ہے '' میں مار کھاتا حسب سابق مدد کے لئے اماں کو دیکھ رہا تھا اور اماں ہکا بکا کھڑی تھی اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ابا اس کے لئے اتنا حساس ھو گا – اتنا مان سمان ، اتنا پیار ،احترام ۔ مجھے پڑنے والا ہر تھپڑ ماں کی حیثیت میں اضافہ کر رہا تھا – وہ ھواؤں میں اڑ رھی تھی مجھے بچانا اسے یاد ہی نہیں تھا اور مار کھاتے ھوئے میں نے جان لیا تھا '' دنیا میں جو چاہے کرتے رھو لیکن کبھی ماں کے ادب میں کمی نہ کرو – ماں سے پنگا لینے والوں کو نہ تو اللہ معاف کرتا ہے نہ ھی ابا جی ''


جمعہ، 14 اگست، 2015

جشن آذادی ، سوشل میڈیا سے پہلے

یوم آذادی مبارک  
                                                 جشن آذادی،  سوشل میڈیا سے پہلے

     جشن آذادی ہم ھمیشہ ہی شوق سے مناتے رہے ہیں ۔ چودہ اگست کو قومی ترانہ سننا ،پریڈ دیکھنا ، سفید اور ھرا لباس پہننا اور گھر سجانا ھمارے بچپن کے شوق ہیں ۔ ویسے تو ھم گھر کو جھنڈے، جھنڈیوں سے ہی سجاتے تھے لیکن  ہمیں یاد ہے ایک بار ہم نےتبدیلی کے لئے گھر کو دیوں سے سجانے کی کوشش بھی کی تھی ۔  (یہ سیاست والی تبدیلی نہیں  تھی ۔ کافی پرانی بات ہے،  جب سیاست اور نصابی کتب میں  ہماری دلچسپی  یکساں تھی۔  اب تو خیر دیے جلانا عام ہیں ۔ آج کل ہم نے اپنی نئ نسل کو یہ ہی سکھایا ھے کہ کسی بھی المیے پر اللہ سے رحم مانگنے اور شہداء کی مغفرت کی دعا کرنے کی بجائے دئے  جلائے جائیں  مگر ان دنوں یہ ہمارے لیے نیا خیال تھا اور ہم اس کی تاریخ سے ناواقف تھے ۔ )  بہرحال تو ھمارے گھر میں کوئی صحن کی ایسی دیوار نہ تھی جس پر دئے جلائے جا سکتے۔گھر کی بیرونی دیوار کے ساتھ زمین پر سجانا بھی اچھا نہیں لگا- سو ھمارے اوپر والی منزل پر رہنے والی پڑوسی باجی نے اپنی گیلری اس خدمت کے لئے پیش کی۔ وہ بھی ہمارے پلان میں شامل ھو گئیں۔ پھر ہماری کزن جو اپنے گھر سے خصوصا اس مشن کے لئے ہی آئی تھی۔ سو 14 اگست کو ھم سب نے بہت محنت سے دئے جلائے گھر سجایا اور گھنٹہ بھر گلی میں کھڑے ہو کر خود ہی اپنی تعریف کی ۔ جگہ سے لیکر سجاوٹ تک سب بہترین تھی لیکن تب الحمد للہ بجلی والے اتنے ''مہربان'' نہ تھے سو گلی میں جلتی روشنیوں کے ڈھیر میں ھمارے ننھے منے دئے کچھ خاص توجہ نہ پا سکے۔  اب گھر سجانے کا رواج کم ہو گیا ہے ۔آج کل ہمارے بچے تو یوم آزادی منانے کے لئے سب سے پہلے  ٹیب کا وال پیپر  بدلتے ھیں ، یا فیس بک کی پروفائل  پک، اس کے بعد ہاتھ کے بینڈ سے لے کر سر کی عجیب و غریب ٹوپیاں و لباس وغیرہ کی باری ہے،  گھر سجانا تو آخر میں آتا ہے۔        ہمارے یونیورسٹی  کے درشن کرنے تک یہ سب کچھ اتنا عام نہیں  تھا مگر جشن تو ہوتا تھا ۔یوم آذادی پر یونی کے کیا کیا قصے نہ سن رکھے تھے۔  مٹھائیاں بٹتی ہیں تو کیک کٹتے ہیں سو ہم جیسے نکمے جو صبح صبح  منہ دھونا بھی کارنامہ گردانتے ہیں۔ ان قصوں کے زیر اثر 14  اگست کو اہتمام سے سفید فراک پجامہ ، سبز دوپٹہ ، سبز و سفید چوڑیاں  پہن کر تیار شیار ہو کر یونی پہنچے۔ یہی تیاری ہماری دوست کی بھی تھی ۔ حسب معمول لیٹ پہنچے سو ڈائریکٹ کلاس کے اندر ، اب ایسے شغل تو یونی میں عام ہیں لیکن ایسی تبدیلی نظروں میں تو آئۓ گی ۔ سو اس دن کلاس میں ہمارے کلاس فیلوز ہمارے پیچھے '' سوھنی دھرتی اللہ رکھے ۔۔۔۔۔'' گنگناتے ہمیں زچ کرتے رہے۔خیر بم نے بھی ہار نہ مانی اور 14 اگست کو تیار ہونا جاری رکھا۔ہم ایم کیو ایم کے سپورٹر نہ تھے مگر یوم تاسیس کو بھائی اور باجیوں کی دی گئی چوڑیاں بخوشی قبول کرتے اور چودہ اگست کی یاد میں  سبز و سفید ایک سہیلی اور سرخ دوسری سہیلی پہن لیتی ۔  یونی میں یوم آزادی پر اور بھی بہت کچھ ہوتا مگر ہمارا شعبہ اس معاملے میں صفر تھا۔طلبا خود ہی پیسے جمع کر کے کیک لے بھی آتے اور کاٹ بھی لیتے لیکن وہ کیک ملتا قسمت والوں کو ہی تھا اور جو ہلڑ مچتا اور کیک کی وہ خراب حالت ہوتی تھی کہ سوچنے دیکھنے کا موقع ملتا تو کوئی نا کھاتا  لیکن وھاں سب  جلدی میں کسی کے اچکنے سے پہلے ہی کھا لینا چاہتے تھے سو جیسا تیسا بھی کھا لیتے۔ یوں بھی یونی لائف میں تو ہر چیز میں مزہ ہوتا ہے نا۔چاہے وہ سبیل کا شربت ھو یا میلاد کی مٹھائی۔   ویسے جس طرح لوگ  محرم میں شربت بانٹتے ہیں اور شب برآت پر حلوہ ، اسی طرح 14 اگست پر بھی تو بانٹنا چاہیئے-  سفید ہرے فرائیڈ رائس بانٹ دیں  گاجر نہ ڈالیں بس ہری شملہ مرچ،مٹر ،ھری پیاز کافی بے یا چلو سادہ مٹر پلاؤ ہی بھجوا دیں۔ہری چٹنی کے ساتھ ڈوسہ بھی اگست کی بہترین ڈش ھے۔ کچھ نہ ہو تو ہرے شربت کی ہی سبیل لگا لیں –  اف منہ میں پانی  آۓ جا رہا ہے - یاد رہے ہم بانٹنے والوں میں نہیں کھانے والوں میں سے ہیں سو  پلیز جب بھی کچھ بانٹیں ہمیں یاد رکھئے گا۔
  اللہ حافظ 

  اللہ پاکستان پر اپنی رحمت ک سائے ہمیشہ رکھے اور ہماری آذادی قائم و دائم رہے
 آمین
  پاکستان زندہ باد   
  #عائشہ_تنویر
 #Aisha_Tanveer